مضمون میں دلیل دی گئی ہے کہ دنیا کے کچھ طاقتور ترین رہنما اور کاروباری شخصیات اب ہیروز سے زیادہ خیالی ولن سے مشابہت رکھتے ہیں، جو مذاکرات، تعاون اور مشترکہ اصولوں پر بے لگام طاقت اور اس کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں۔