اتھارٹی نے کہا کہ زیر غور کام اس ماڈل پر مبنی ہے جس میں ملکیت ریاست کے پاس رہتی ہے، جبکہ آپریٹنگ حقوق ایک مخصوص مدت کے لیے منتقل کیے جاتے ہیں۔ اس ماڈل کے تحت ترجیح آمدنی پیدا کرنا نہیں بلکہ موٹرویز پر سروس کے معیار کو بہتر بنانا، دیکھ بھال اور سرمایہ کاری کو تیز کرنا اور آپریشنل کارکردگی بڑھانا ہے۔ اتھارٹی نے نامکمل اور گمراہ کن عوامی اندازوں کا بھی جواب دیا جن میں کہا گیا کہ موٹرویز سالانہ 600 ملین ڈالر کماتی ہیں اور 30 سال میں کل منافع 18 ارب ڈالر تک پہنچتا ہے۔ اس نے زور دیا کہ 600 ملین ڈالر کی رقم منافع نہیں بلکہ آمدنی ہے۔ اس میں سے تقریباً 300 ملین ڈالر دیکھ بھال اور مرمت کے اخراجات کے لیے مختص ہیں، جبکہ سرمایہ کاری، تجدید، عملہ اور آپریشنز کے لیے اضافی اہم اخراجات ہیں۔ اتھارٹی نے کہا کہ ان اخراجات کو نظر انداز کرنے والے حسابات موٹرویز کی حقیقی اقتصادی قدر کی عکاسی نہیں کرتے اور عوام ک